ایک ایسے وقت جب عالم اسلام کوموجودہ حالات میں ہردور سے زیادہ اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عالم اسلام کے بعض علاقوں منجملہ پاکستان میں امریکی سازشوں اور واشنگٹن کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مسلمان آپس میں ہی دست بگریباں نظرآرہے ہيں ۔ عالم کفر اوربین الاقوامی صہیونیزم انہی اختلافات اورآپسی نفاق سے فائدہ اٹھاکر دینی اقدار منجملہ قرآن کریم اور پیغمبراسلام کی شان میں اہانت کرنے کی جرآت کرنے لگے ہيںاس درمیان پاکستان جو ایک بڑا اسلامی ملک ہے اسلامی اقدار اورمقدسات کی حفاظت اوردفاع میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے ۔ آج پاکستان میں جہاں سیلاب سے تباہ کاریوں سے دوکروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اورگذشتہ پچاس دنوں سے پاکستان تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامنا کررہا ہے وہیں دوسری طرف دہشت گردی نے اچانک دوبارہ سراٹھا لیا ہے ۔اوراسیا لگتا ہے کہ پاکستان ایک خانہ جنگی کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔دریں اثناء پاکستان میں بعض ایسے گروہ ہیں جوامریکہ کے خلاف جنگ کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے سارے اقدامات ایسے ہيں جن سے اس بات میں کسی کوشک وشبہہ ہی نہیں رہ جاتا کہ وہ امریکہ اورصہیونیوں کی ہی خدمت کررہے ہيں اورخود کو پاکستانی کہنے والے یہ شدت پسند عناصر خود پاکستان کوہی کمزور کررہے ہيں نتیجے ميں ملک کوتباہی کے دہانے پرپہنچانے میں انھوں نے کوئی بھی کسر نہيں اٹھارکھی ہے ۔پاکستان کو جسے آج سیلاب کی تباہ کاریوں سے تقریبا چالیس سے پچاس ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ملکوں سے اس کے تعلقات دوستانہ اورخوشگوار رہيں اورخاص طورپر ہمسایہ ملکوں سے اپنے تعلقات بہت ہی دوستانہ اوربرادرانہ رکھے تاکہ ان ملکوں کی طرف سے انھیں امداد پہنچتی رہے۔ لیکن امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ اس دشوارصورت حال میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خاص طورپر اسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ اس کے تعلقات کوخراب کرے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے فورا بعد اسلامی جمہوریہ ایران وہ پہلا ملک ہے جس نے اپنی امدادی ٹیم پاکستان روانہ کی اورمتاثرہ علاقوں کے لئے اب تک وہ سیکڑوں ٹن امدادی اشیاء ارسال کرچکا ہے اسلامی جمہوریہ ایران نے متاثرہ علاقوں میں اپنے ڈاکٹروں کی ٹیم بھی تعینات کررکھی ہے جبکہ ایران کےکئی سرکاری وفود متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کرچکےہیں ۔ علاوہ ازیں ابھی سولہ ستمبر کوپورے اسلامی جمہوریہ ایران میں پاکستان کے سیلاب زدگان سے یکجہتی کاقومی دن منایا گیا ۔رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نمازعید کے خطبے میں پاکستان کے مومن، متدین اورغیور عوام کے لئے جو اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں سامنا کررہے ہيں فوری مدد کی درخواست کی تھی آپ نے اپنے خطبہ نمازعید میں صاف طورپر فرمایا تھا کہ آج عالم اسلام کا سب سے فوری اورہنگامی مسئلہ پاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد کرنا ہے اورآپ کی اسی تاکید کے ہی نتیجے میں پورے ایران میں پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے امداد جمع کرنے کا کام اورتیزی سے شروع ہوگیا، اگرچہ پورے ملک میں پہلے سے ہی پاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے امداد جمع کرنے کا کام جاری تھا۔ چنانچہ رہبرانقلاب اسلامی کی اسی تاکید کے ہی نتیجے میں ایران میں پاکستانی سیلاب زدگان سے یکجہتی کا قومی دن منایا گيا یہ تمام انسان دوستانہ اقدامات اس بات کے شاہد ہيں کہ ایران کے عوام پاکستان کے عوام سے کتنی ہمدردی رکھتے ہيں مگرایران و پاکستان کے عوام کے اس قریبی رشتے کو دونوں ملکوں کے عوام کے دشمن تحمل نہيں کرپارہے ہيں اسی لئے وہ ایک طرف سے تو پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کرکے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے ایران کے عوام اورحکومت کی طرف سے دی جانےوالی بڑے پیمانے پرامداد کی خبروں کو منظرعام پرنہيں آنے دیتے ۔ان دشمنوں کو اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ایرانی عوام کی طرف سے اتنے بڑے پیمانے جذبہ ہمدردی کے اظہار کے بعد پاکستان کے عوام جوپہلے سے ہی ایران سے قریب ہیں اورقریب نہ ہوجائيں کیونکہ ایران کے عوام نے اپنے انسان دوستانہ اقدامات کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے پاکستانی بھائي بہنوں کوتنہا نہيں چھوڑسکتے ۔ دوسری طرف ایران و پاکستان کے عوام کی دوستی کے دشمنوں نے پاکستان کے لئے ایران کی بڑے پیمانے پردی جانےوالی امداد کے ہی موقع پر قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں شیطنت کرکے دہشت گردگروہوں اورطالبان کوشیعہ مسلمانوں کے قصبے شلوزان پر حملہ کرنےکے لئے اکسادیا تاکہ اس علاقے میں شیعہ وسنی مسلمانوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکا کر پاکستان کے لئےایران کی طرف سے دی جانےوالی امداد کی خبروں کو جو پہلے ہی پاکستانی ذرائع ابلاغ میں کم تھیں اورکم کردیں۔ البتہ یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ پاکستان کے اکثروبیشتر عوام سامراجی طاقتوں کے اس طرح کے گھناؤنے منصوبوں سے باخبرہیں اوروہ ان کے چکرمیں نہيں آتے کیونکہ آج پاکستان کے عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہيں کہ شیعہ وسنی کا مسئلہ اٹھا کر سامراج اوراس میں سرفہرست امریکہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتاہے ۔ان تمام باتوں کے پیش نظرضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے عوام ہردور سے زیادہ ہوشیاری اورتدبر کا مظاہرہ کریں کیونکہ آج پاکستان کو سامراجی گھناؤنی سازشوں کا سامنا ہے پاکستان کے عوام کوچاہئے کہ وہ اپنا راستہ اپنے دشمنوں اوران کے ایجنٹوں سے الگ کرلیں ۔ان حالات میں پاکستان کی حکومت اورذمہ دار حکام کو بھی چاہئے کہ وہ دشمنوں کی سازشوں کو درک کرتے ہوئے پاکستان کے مسلمان عوام کے درمیان اختلاف ڈالنے اورایک دوسرے کا خون بہانے کی سامراجی ایجنٹوں کی مذموم سازشوں کو ناکام بنادیں۔ اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے ذمہ دار ادارے دشمنوں کے ایجنٹوں کی شناخت کرکے انھیں گرفتار کریں اورقومی سالمیت کے خلاف سازش کے تحت ان پرمقدمہ چلاکر قرار واقعی سزادیں تاکہ پاکستان کی سالمیت کواس زیادہ خطرہ لاحق نہ ہو۔ آج پاکستان اپنے بہت ہی نازک دور سے گذررہا ہے اوربعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاید پاکستان میں پھر کودتا ہوجائے۔ اورامریکہ کے خصوصی ایلچی ریچرڈہالبروک کے حالیہ دورہ پاکستان کو وہ اسی تناظر میں بھی دیکھتے ہيں لیکن پاکستان کے عوام جنھوں نے برسوں بعد جمہوریت کی فضا میں سانس لینا شروع کیاہے اس بات کی اجازت نہيں دیں گے کہ ان کے ملک پر دوبارہ آمریت مسلط کی جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110